Sunday, February 2, 2025

Amazing story about a betterfley

چھوٹی چمکدار تتلی گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا جنگل تھا، جہاں طرح طرح کے پرندے چہچہاتے، رنگ برنگے پھول کھلتے، اور تتلیاں ان پر منڈلاتیں۔ اسی جنگل میں ایک ننھی سی تتلی رہتی تھی جس کے پروں پر چمکدار نیلے اور سنہری دھبے تھے۔ اس کا نام "نور" تھا۔ نور عام تتلیوں سے مختلف تھی، کیونکہ اس کے پروں میں ایک خاص چمک تھی، جو رات میں بھی مدھم سی روشنی دیتی تھی۔ نور ہمیشہ سوچتی کہ اس کی چمک اسے منفرد تو بناتی ہے، مگر کبھی کبھی وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتی۔ دوسری تتلیاں اس کا مذاق اڑاتیں اور کہتیں، "یہ تتلی تو جگنو کی بہن لگتی ہے!" نور کو یہ بات بری لگتی، مگر وہ ہمیشہ مسکرا کر خاموش رہتی۔ ایک دن جنگل میں ایک عجیب سا شور ہوا۔ درختوں کے درمیان ایک پرانا برگد کا درخت تھا، جس کے نیچے ایک بڑا بل تھا۔ یہ بل جنگل کے سب سے دانا اور بوڑھے کچھوے "بابا شیرو" کا تھا۔ بابا شیرو ہمیشہ اپنی کہانیوں سے سب کو محظوظ کرتے اور قیمتی نصیحتیں دیتے تھے۔ آج وہ بہت پریشان لگ رہے تھے۔ "کیا ہوا بابا شیرو؟" نور نے پوچھا۔ بابا شیرو نے گہری سانس لی اور بولے، "جنگل کے قریب ایک شکاری آیا ہے۔ وہ ہر رات آتا ہے اور اپنے جال بچھاتا ہے۔ کئی پرندے اور خرگوش پہلے ہی اس کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ اگر ہم نے کوئی تدبیر نہ کی تو پورا جنگل خطرے میں پڑ جائے گا!" تمام جانور پریشان ہو گئے۔ ہرن، خرگوش، بندر، سب نے اپنی اپنی رائے دی، مگر کوئی بھی ایسا منصوبہ نہ بنا سکا جو شکاری کو روک سکے۔ تب نور نے آہستہ سے کہا، "شاید میں مدد کر سکتی ہوں۔" سب حیرانی سے نور کی طرف دیکھنے لگے۔ "تم؟" بندر نے ہنستے ہوئے کہا، "تم تو اتنی چھوٹی ہو، تم کیا کر سکتی ہو؟" نور نے مسکرا کر کہا، "میری چمکدار روشنی شکاری کو الجھا سکتی ہے۔ اگر میں رات میں اس کے سامنے اچانک چمکنے لگوں تو وہ ڈر جائے گا اور بھاگ سکتا ہے!" یہ سن کر بابا شیرو نے سر ہلایا اور کہا، "یہ ایک زبردست خیال ہے!" رات ہوئی، چاندنی ہر طرف بکھری ہوئی تھی۔ نور چپکے سے اس جگہ جا پہنچی جہاں شکاری اپنے جال بچھا رہا تھا۔ جیسے ہی وہ جال پھیلانے میں مصروف ہوا، نور نے آہستہ آہستہ اپنے پروں کو ہلانا شروع کیا۔ اس کے سنہری دھبے ایک مدھم روشنی سے چمکنے لگے۔ پھر اچانک وہ جھپک جھپک کر چمکنے لگی، جیسے سینکڑوں جگنو ایک ساتھ روشن ہو گئے ہوں۔ شکاری نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔ "یہ کیا ہے؟" اس نے گھبرا کر سرگوشی کی۔ نور نے اور زیادہ تیزی سے اپنے پروں کو ہلانا شروع کیا، اور اب وہ بالکل کسی چمکدار پری کی طرح لگ رہی تھی۔ شکاری کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ وہ جلدی سے اپنا سامان سمیٹنے لگا اور بڑبڑایا، "یہ جنگل آسیب زدہ لگتا ہے! مجھے یہاں سے فوراً نکل جانا چاہیے!" یہ کہتے ہی وہ اپنے جال چھوڑ کر بھاگ گیا۔ جنگل کے تمام جانور درختوں کے پیچھے چھپ کر یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ جیسے ہی شکاری بھاگا، سب جانور خوشی سے اچھل پڑے۔ "نور نے ہمیں بچا لیا!" خرگوش نے خوشی سے نعرہ لگایا۔ بندر نے شرمندگی سے سر جھکا کر کہا، "میں نے تمہارا مذاق اڑایا تھا، مگر تم نے اپنی چمک سے پورے جنگل کو محفوظ کر دیا!" بابا شیرو مسکرا کر بولے، "نور، تم نے ثابت کر دیا کہ جو چیز ہمیں منفرد بناتی ہے، وہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہو سکتی ہے!" اس دن کے بعد، نور پورے جنگل کی ہیرو بن گئی۔ اب کوئی بھی اس کی چمک کا مذاق نہیں اڑاتا تھا، بلکہ سب اس کی روشنی کو ایک روشنیِ امید سمجھتے تھے۔ نور جان چکی تھی کہ ہر خاص چیز کی اپنی ایک خاص جگہ اور مقصد ہوتا ہے، اور اس کا مقصد جنگل کو روشنی دینا تھا۔ اختتام

No comments:

Post a Comment

The Amazing Story of Nick Vujicic: A Life of Purpose and Inspiration

Sometimes, life can be overwhelming, and we may find ourselves wondering if we're making a difference in the world. But every now and ...