Tuesday, January 28, 2025

وزیر نے بادشاہ سے کہا 100میں سے 99لوگ اندھے ہوتے ہیں

اکبر بادشاہ


ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﯾﺮ ﺗﮭا

 ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ۔

 ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ 100 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 99 ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭ ﻭﺭﻧﮧ ﺳﺰﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺅ ۔ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮨﻮﮔﯽ ۔

ﺍﮔﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﺷﺎﮨﺮﺍﮦ ﻋﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﻨﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ۔ 

اتنے میں ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ 

ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﻭﻥ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺩﻭ ۔ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ۔

ﯾﻮﮞ ﻟﻮﮒ ﺁﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮔﺌﮯ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﻮﺍﺗﮯ ﮔﺌﮯ ۔۔...ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮨﯽ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﮔﺬﺭﺍ ﺗﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﯿﺮﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔

تو ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻭﻥ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ۔

 آخرکار ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮ ﭼﮭﺎ کہ

 ﺧﯿﺮﯾﺖ ﮨﮯ ﺑﯿﺮﺑﻞ! یہ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﻦ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ؟

ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﻧﮯ ﻣﻌﺎ ﻭﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﺩ ﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮩﺎ ۔

ﻋﺎﻟﯽ جاہ و ﺟﻨﺎﺏ ! ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ اندھوں میں ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺼﺎﺭﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔

ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺁﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺼﺎﺭﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ –




Sunday, January 26, 2025

کسی شخص نے رات کے وقت نعشہ کے ساتھ زنا کیا


زنا کا وبال


ابو جان ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ

کسی قبرستان میں ایک شخص نے رات کے وقت نعش کیساتھ زنا کیا۔


بادشاہ وقت ایک نیک صفت شخص تھا اسکے خواب میں ایک سفید پوش آدمی آیا اور اسے کہا کہ فلاں مقام پر فلاں شخص‏اس گناہ کا مرتکب ہوا ہے، اور اسے حکم دیا کہ اس زانی کو فوراً بادشاہی دربار میں لا کر اسے مشیر خاص کے عہدے پر مقرر کیا جائے۔ بادشاہ نے وجہ جاننی چاہی تو فوراً خواب ٹوٹ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔ 


بہر حال

سپاہی روانہ ہوئے اور جائے وقوعہ ہر‏پہنچے، وہ زانی شخص وہیں موجود تھا۔۔

سپاہیوں کو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسکی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔۔

اسے بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے اسے اسکا گناہ سنایا اور کہا ۔

آج سے تم میرے مشیر خاص ہو،‏دوسری رات بادشاہ کو پھر خواب آیا۔ 

تو بادشاہ نے فوراً اس سفید پوش سے اس کی وجہ پوچھی کہ ایک زانی کیساتھ ایسا کیوں کرنے کا کہا آپ نے؟؟

سفید پوش نے کہا

اللہ کو اسکا گناہ سخت نا پسند آیا، چونکہ اسکی موت کا وقت نہیں آیا تھا اسی لیے‏تم سے کہا گیا کہ اسے مشیر بنا لو، تاکہ وہ عیش میں پڑ جائے اور کبھی اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی نا مانگ سکے۔ کیوں کہ اسکی سزا آخرت میں طے کی جا چکی ہے۔ مرتے دم تک وہ عیش میں غرق رہے گا، بلکہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر اسے سزا دی جانی چاہیے تھی اس گناہ پر اسے اعلیٰ‏عہدہ مل گیا۔۔

سو اسے عیاشی اور بار بار مواقع ملنا قدرت کا اسکو گمراہی میں ہی ڈالے رکھنا مقصد تھا۔۔


ابو اٹھے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا۔۔

جب گناہوں ہر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے‏دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔۔


میں سن کر حیران رہ گیا۔۔ اپنے گریباں میں اور آس پاس نگاہ دوڑائی۔


کیا آج ایسا نہیں ہے؟؟ 

بار بار گناہوں کا موقع ملتا ہے ہمیں اور کتنی آسانی سے ملتا ہے اور کوئی پکڑ نہیں ہوتی ہماری۔ ہم خوش ہیں۔ عیش میں ہیں۔۔‏کتنے ہی مرد و خواتین کتنی ہی بار گھٹیا فعل کے مرتکب ہوتے ہیں اور مرد و عورت اسے اپنی جیت کا نام دیتے ہیں ۔

اور اگلی بار ایک نیا شکار ہاتھ میں ہوتا ہے۔۔

پہلی بار گناہ ہر دل زور زور سے دھڑکے گا آپکا، دماغ غیر شعوری سگنل دے گا۔ ایک‏ٹیس اٹھے گی ذہن میں۔ جسم لاغر ہونے لگے گا ، کانپنے لگے گا


 یہ وہ وقت ہوگا جس ایمان جھنجھوڑ رہا ہوتا ہے، چلا رہا ہوتا ہے کہ دور ہٹو، باز رہو۔

The Amazing Story of Nick Vujicic: A Life of Purpose and Inspiration

Sometimes, life can be overwhelming, and we may find ourselves wondering if we're making a difference in the world. But every now and ...